کفالت یتیم​

Feed An Orphan

The one who cares for an orphan and myself will be together in Paradise like these two Fingures. (Bukhari & Muslim)

میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتہ دار ہو یا غیرجنت میں اس طرح ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں (بخاری و مسلم )

Feed an Orphan
کفالت یتیم

Feed an
Orphan

The one who cares for an orphan and myself will be together in Paradise like these two Fingures. (Bukhari & Muslim)

میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتہ دار ہو یا غیرجنت میں اس طرح ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں (بخاری و مسلم )

Become an Orphan’s Hope
Become an Orphan’s Hope

Maria’s condition became critical, and she was placed on a ventilator. Her mother continued to pray for her daughter’s life, but the cost of treatment reached hundreds of thousands of rupees. As resources began to run out, continuing her treatment became increasingly difficult.

Donate To

Feed an Orphan

Shauoor Welfare Foundation remained by Maria’s side until her final moments, standing with her even at her bedside. But perhaps our efforts were not enough to save her life, and Maria eventually passed away. Even today, many innocent lives are caught between illness, poverty, and helplessness, waiting for treatment and support. They need not only medical care, but also the reassurance that they are not alone. We cannot bring Maria back, but we can try to save another life. Let us play our part in this journey of humanity and join hands with Shauoor Welfare Foundation to support deserving patients who are deprived of treatment because of financial hardship. Your support can become a ray of hope for someone’s life.
SWF24 0536
Maria
Feed An Orphan

ایک یتیم کی امید بنیں

ماریہ کو SLE جیسی سنگین بیماری لاحق تھی۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک ایسے علاقے میں رہتی تھی جہاں نشہ اور دیگر معاشرتی برائیاں عام تھیں۔ وہاں بچوں، خصوصاً بچیوں کا محفوظ رہنا ایک ماں کے لیے ہر روز کی فکر تھی۔ ماریہ کی ماں دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے گھر سے نکلتی تو اس کے دل میں اپنے بچوں کے تحفظ کی فکر رہتی۔ بیماری، غربت، بے بسی اور مسلسل دکھ سہتے سہتے ماریہ کی زندگی ایک کٹھن آزمائش بن گئی۔ غربت نے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا اور علاج تک رسائی بھی اس کے لیے ایک مسلسل جدوجہد بن گئی۔ شعور ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ماریہ اور اس کے خاندان کا ساتھ دیا اور علاج کے سفر میں حتیٰ الامکان مدد فراہم کی، لیکن زندگی نے ماریہ کے لیے مشکلات ختم نہیں کی تھیں۔ حالات اور گھریلو مسائل کے باعث ماریہ کی والدہ نے اس کی شادی کر دی۔ شادی کے بعد اچانک ماریہ کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ اس آزمائش کے دوران ماریہ نے اپنے بچے کی موت کا صدمہ بھی برداشت کیا اور اپنی ماں کی پریشانی بھی دیکھی۔  
ماریہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی اور اسے وینٹیلیٹر پر منتقل کرنا پڑا۔ ایک ماں اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے دعائیں کرتی رہی، مگر علاج کے اخراجات لاکھوں روپے تک پہنچ گئے۔ جب وسائل ختم ہونے لگے تو علاج جاری رکھنا مزید مشکل ہوگیا۔ شعور ویلفیئر فاؤنڈیشن آخری دم تک ماریہ کے ساتھ کھڑی رہی، یہاں تک کہ بسترِ مرگ تک اس کا ساتھ نبھایا۔ مگر شاید ہماری کوششیں اس کی زندگی بچانے کے لیے کافی نہ ہو سکیں اور ماریہ دنیا سے رخصت ہوگئی۔ آج بھی بہت سی معصوم جانیں بیماری، غربت اور بے بسی کے درمیان علاج اور آپ کی مدد کی منتظر ہیں۔ انہیں صرف علاج ہی نہیں، بلکہ یہ یقین بھی چاہیے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔ ماریہ کو ہم واپس نہیں لا سکتے، مگر کسی اور زندگی کو بچانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ آئیے، انسانیت کے اس سفر میں اپنا کردار ادا کریں اور شعور ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر ان مستحق مریضوں کا سہارا بنیں جو مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ آپ کا تعاون کسی کی زندگی کی امید بن سکتا ہے۔

Feed an Ophan

Events & Updates

Scroll to Top